(قسط 1)
ماضی بڑا پرکشش اور دلفریب ہوتا ہے،ایام رفتہ کا ذکر انسان کو بڑا ستاتا ہے،بھولی بسری یادیں انسان کے دماغ میں صدائے بازگشت بن کر گونجتی رہتی ہیں،وہ چاہ کر بھی ان سے ناتے نہیں توڑ سکتا،بلکہ اس کی حساس طبیعت اسے ماضی کی یادوں میں ٹہلاتی ہے،وہ خیالوں کی کشتی پر سوار ہوتا ہے اور زمانہ کی بندشوں کو تجاوز کرتا ہوا،ماضی کے دھندلکے میں گم ہو جاتا ہے،اپنے حال سے غافل اور اپنے اطراف و اکناف سے بے پرواہ ہوکر یادوں کے جھرمٹ میں اٹھکیلیاں کرتا ہے،کسی خوشگوار بات پر زیر لب مسکراتا ہے،تو کبھی کسی ناخوشگوار واقعہ کو یاد کرکے غم و الم سے گراں بار ہوجاتا ہے،خیال کا یہ زریں و سنہری سلسلہ کبھی اسے دوستوں کی بے تکلف مجالس کی سیر کراتا ہے،تو کبھی کسی نازنین و دلنشیں پری سے ملاتا ہے،یادوں کا یہ تلخ و شیریں سلسلہ الم و مسرت کے دوش بدوش رواں دواں رہتا ہے،بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یادوں کی اس بارات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے،اور آج کے لمحات کل کے تصورات و تخیلات کی بنیاد بنتے چلے جاتے ہیں،۔۔۔
کتنی تعجب خیز و حیرت آفریں بات ہے،کہ انسان جب نوجوان ہوتا ہے تو اپنے بچپن کو یاد کرتا ہے،اور جب فارغ التعلیم ہوتا ہے،تو اپنے ایام تعلیم کی یادوں میں بستا ہے،اسے اپنی جوانی و معلمی سے زیادہ اپنی طفولیت و تعلیم کا دور دل کے قریب اور نگاہ کی ٹھنڈک معلوم ہوتا ہے،اور جب ادھیڑ ہوتا ہے تو جوانی کی یادیں ستاتی ہیں،اور جب فنا کے دھانے کھڑا قبر کو تک رہا ہوتا ہے تو اپنے پوتوں کو اپنی زندگی بھر کے کرتوت سنا ڈالنا چاہتا ہے،طفولیت کی شرارتیں،جوانی کے واقعاتِ رجولت،اور ادھیڑ عمری کی عقلمندی سب بیان کرتا اور اپنے بوڑھاپے کو یکسرنظر انداز کرتا ہے،گویا زبان حال سے شاکی ہو کہ ہم جوان ہی ٹھیک تھے،برا ہو اس عمر کا جس نے ہماری جوانی کو بوڑھاپے میں تبدیل کردیا،اور ستیاناس ہو اس سفیدی کا جس نے اچھے،بھلے،چنگے جوان کو بالجبر بوڑھاپے کا ذلت آمیز طوق پہنا دیا،اگر موقع ملے تو دوبارہ اسی زمانہء ترنگ و امنگ کی جانب پلٹیں،اور عشق و محبت کی ادھوری داستانوں کو مکمل کریں۔۔۔۔لیکن افسوس یہاں سے آگے تو قبر کی تاریکیاں منتظر ہیں،اور محبوبہ بھی اپنا شباب و حسن کھو کر بوڑھی کھوسڑ ہوچکی ہوگی،لہذا یہ تمنا نامکمل ہی رہے گی،اور یہ داستان ناتمام ہی لکھی جائے گی،اس داستان کو ناتمام رکھنے کی اصل وجہ وہ بے چین و بے کل طبیعت ہے جسے سیری نہیں ہوتی،اور وہ خواہش ہے جس کے جبڑے قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے،لہذا قبر تک رسائ ہونے تک اسے انگڑائیاں لینے دیں،دل کی سمندر میں یادوں کو ہچکولے کھانے دیں،اور گزرے ایام میں جیتے رہیں،کیوں کہ حضرت انسان کے پیوند لگے دامن میں بس یادوں کے ہی لعل و گوہر ہیں،جو اسے بد سے بدتر حالات میں بھی ہنساتے رہتے ہیں،لہذا اگلی قسط تک مسکراتے رہئیے،کیوں کہ آپ یادوں کے دلنشیں چمن میں اپنے کسی بچھڑے یار کے ساتھ سیر کر رہے ہیں،اگر یادیں تکلیف دیں تو یہ شعر گنگناتے رہیں۔۔۔