بنیت تجارت خریدے ہوئے مال پر قبضہ سے پہلے زکوة

???? *تاریخ* ???? *☪ ٩شعبان المعظم١٤٤١ھ* *???? 4 اپریل2020* ???? بروز۔ *سنیچر* ???? *مسئلہ* ???? ✒ بنیت تجارت خریدے ہوئے مال پر قبضہ سے پہلے زکوة ۔ ???? کوئی سامان تجارت کی نیت سے خریدا ہے مگر ابھی قبضہ نہیں کیا تو اس پر زکوۃ واجب نہ ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المساٸل ???? وخرج به أيضا كما في البحر المشتري للتجارة قبل القبض. (شامی کراچی ۲۶۰/۲ )ولا فيما اشتراه لتجارة قبل قبضه. (درمختار مع شامی زکریا ۳/ ۱۸۰، تاتارخانية زکریا ۲۶۹٫۳) ???? حدیث النبیﷺ۔وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وضربوه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ابوبکر اور عمر ؓ نے خیانت کرنے والے کے مال و متاع کو جلا دیا اور اس کی پٹائی کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد۔ أوکماقال النبی ﷺ۔ (مشکوةشریف حدیث نمبر ٤٠١٣ ) ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں CONTACT NO 6206649711 ????????????????????????????????????????????????

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔