*سوال:* کیا ایک شخص جمعہ کا خطبہ دو الگ الگ جگہ دے سکتا ہے جبکہ اس شخص نے ایک جگہ جمعہ کا خطبہ دیا اور جمعہ کی نماز پڑھادی اور پھر دوسری جگہ اسی شخص کو صرف جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے لئے بلا لیا گیا کیا یہ جائز ہے؟ (محمد احمد اتم نگر دھلی)
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب بسم ملہم الصواب*
کتب فقہ اور حدیث مبارکہ کی تشریحات میں صراحتاً یہ مسئلہ احقر کو نہیں مل سکا البتہ فقہائے کرام کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے؛ کہ نماز جمعہ کا امام اور خطیب ایک ہونا بہتر اور افضل ہے، اور دونوں کا الگ الگ ہونا مناسب نہیں؛ لیکن اگر ایک شخص خطبہ دے اور دوسرا نماز جمعہ پڑھائے تو بھی نماز ہوجائے گی؛ گرچہ یہ عمل خلاف اولی ہے(1)
اسی طرح فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ صبی عاقل اگر خطبہ دیتا ہے اور کوئی بالغ مرد امامت کرتا ہے تو خطبہ اور نماز درست ہے، ظاہر ہے کہ بچے کی نماز نفلی نماز ہوگی اور اس کا دیا ہوا خطبہ معتبر ہے تو جو شخص ایک جگہ خطبہ پڑھ چکا ہے اور نماز پڑھا چکا ہے تو اس کی بھی یہ نماز نفل ہوگی تو جس طرح بچے کا خطبہ معتبر ہوکر نماز ہوگیی تھی اسی طرح اس آدمی کے خطبہ دینے سے بھی نماز درست ہوجائے گی؛ بشرطیکہ نماز ایسا شخص پڑھائے جس نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو؛چنانچہ فتاوی محمودیہ میں بالکل اسی طرح کے سوا جواب میں مفتی صاحب لکھتے ہیں:
"صراحتا یہ جزئیہ کہیں نہیں دیکھا اتنا ضرور لکھتے ہیں کہ خطیب و امام کا ایک ہی ش??ص ہونا ضروری نہیں، البتہ اولی یہ ہے؛ کہ جو شخص خطبہ پڑھے وہی جمعہ پڑھائے، ساتھ میں یہ بھی ہے کہ اگر نابالغ لڑکے نے خطبہ پڑھا اور بالغ نے جمعہ پڑھایا تب بھی جمعہ ادا ہوجائے گا، اور یہ بھی ہے کہ نابالغ جو جمعہ کی نماز پڑھے گا وہ نفل نماز ہوگی، اس مجموعے سے سمجھ میں آتا ہے کہ صورت مسؤلہ میں بھی جمعہ ادا ہوجائے گا"
نیز اسی قسم کے سوال کے جواب میں حضرت مفتی صاحب نے ایک مقام پر تحریر فرمایا ہے "وہ خطبہ نہ دے" اور محشی نے حاشیہ میں اس پر لکھا ہے؛ "یعنی خطبہ نہ دینا ہی اولی ہے، بالفرض اگر خطبہ دے بھی دے تو نماز جمعہ اپنی جگہ درست ہے"(2)۔
اس پورے بیان سے معلوم ہوا کہ ایک جگہ جمعہ کا خطبہ دینے اور نماز جمعہ پڑھا دینے کے بعد دوسری جگہ خطبہ دینا مناسب اور بہتر نہیں ہے؛ تاہم اگر خطبہ دے دے تو خطبہ بھی درست ہوگا اور نماز بھی ادا ہوجائے گی۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل علی ما قلنا????*
(1) لاينبغي أن يصلي غير الخطيب لأن الجمعة مع الخطبة كشيء واحد فلا ينبغي أن يقيمها إثنان وإن فعل جاز (رد المحتار على الدر المختار كتاب الصلاة باب الجمعة 11/3 رشيدية)
وقد صرح في الخلاف بأنه لو خطب صبي بإذن السلطان و صلى الجمعة رجل بالغ يجوز (البحر الرائق كتاب الصلاة باب الجمعة 258/2 رشيدية)
اتحاد الخطيب و الإمام ليس بشرط على المختار (حاشية الطحطاوی كتاب الصلاة باب الجمعة 415 مصري)
(2) فتاوى محمودیہ کتاب الصلا باب الجمعة 258-269/8
*كتبه العبد محمد زبیر ندوی*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 15/8/1441
رابطہ 9029189288